Home / news / مرد اگر شہد کو اپنے جسم کے اس حصے پے لگا لے تو بہت فائدہ ہوتا ہے

مرد اگر شہد کو اپنے جسم کے اس حصے پے لگا لے تو بہت فائدہ ہوتا ہے

مرد اگر شہد کو اپنے جسم کے اس حصے پے لگا لے تو بہت فائدہ ہوتا ہے مرد اگر شہد کو اپنے جسم کے اس حصے پے لگا لے تو بہت فائدہ ہوتا ہے مرد اگر شہد کو اپنے جسم کے اس حصے پے لگا لے تو بہت فائدہ ہوتا ہے

شہد کے بیشمار فوائد ہے لیکن آج جو فائدے ہم آپکو بتائیں گے ان کے بارے میں آپ نے کبھی سنا نہیں ہوگا۔دانوں کیلئے:اگر آپ کیل مہاسوں اور دانوں کا شکار ہیں

تو اس پر شہد لگانے سے آپ کو کافی افاقہ ہوگا۔شہد کو روئی میں بھگوئیں اور مہاسوں پر لگائیں ،20منٹ بعد اسے تازہ پانی سے دھولیں۔ آنکھوں کے حلقوں کیلئے:اگر آپ کی آنکھوں کے نیچے حلقے موجود ہیں

تو شہد لگانے سے یہ دور ہو جائیں گے ،ایک جتنا شہد اور بادام کاتیل لیںاور انہیں مکس کر کے رات کو سونے سے پہلے لگائیں اور صبح

آٹھ کر اسے دھو لیں۔سر کی خارش کیلئے:اگرآپ سر کی خشکی یا کسی اور وجہ سے خارش کاشکار ہے تو ایک کھانے کا چمچ شہد لیں اور اس میں برابر مقدار کا پانی ملا کر مکس کر لیں

۔اب ا س پانی سے سر کا مساج کریں اورپانچ منٹ بعد نیم گرم پانی سے سر دھو لیں۔یہ عمل روزانہ کریں ۔اس عمل سے چند ہی دنوں میں آپ کے سر کی خارش اور خشکی ختم ہو جائیگی۔

شہد کے بیشمار فوائد ہے لیکن آج جو فائدے ہم آپکو بتائیں گے ان کے بارے میں آپ نے کبھی سنا نہیں ہوگا۔دانوں کیلئے:اگر آپ کیل مہاسوں اور دانوں کا شکار ہیں تو اس پر شہد لگانے سے آپ کو کافی افاقہ ہوگا۔شہد کو روئی میں بھگوئیں

اور مہاسوں پر لگائیں ،20منٹ بعد اسے تازہ پانی سے دھولیں۔ آنکھوں کے حلقوں کیلئے:اگر آپ کی آنکھوں کے نیچے حلقے موجود ہیں تو شہد لگانے سے یہ دور ہو جائیں گے ،

ایک جتنا شہد اور بادام کاتیل لیںاور انہیں مکس کر کے رات کو سونے سے پہلے لگائیں اور صبح

آٹھ کر اسے دھو لیں۔سر کی خارش کیلئے:اگرآپ سر کی خشکی یا کسی اور وجہ سے خارش کاشکار ہے تو ایک کھانے کا چمچ شہد لیں اور اس میں برابر مقدار کا پانی ملا کر مکس کر لیں

۔اب ا س پانی سے سر کا مساج کریں اورپانچ منٹ بعد نیم گرم پانی سے سر دھو لیں۔یہ عمل روزانہ کریں ۔اس عمل سے چند ہی دنوں میں آپ کے سر کی خارش اور خشکی ختم ہو جائیگی۔

بظاہر سکرین پر نظر آنے والے اداکار خوش باش ار ہر چیز سے بے فکر نطر آتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر کو مختلف قسم کی بیماریوں کا سامنا ہوتا ہے ان میں سے کچ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہ بیماری سے لڑتے ہوئے جان کی بازی ہار جاتے ہیں آج ہم آپ کو ایسے ہی پاکستانی شوبز سٹارز کے بارے میں بتائے گے جو کہ خطرناک بیماریوں کا شکار ہے

شرمیلا فاروقی کی والدہ انیسا کو ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے ان کا وزن خود بخود کم ہونے لگ جاتا ہے ان کو یہ بیماری جیل میں لگی جہاں انہیں بدترین تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا

مایہ خان کو گلے میں گلٹیوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے انہیں صبح کا پروگرام چھوڑناپڑا

ان کو طلاق کے بعد شدید ڈیپریشن کا سامنا کرنا پڑا ۔ اور یہ روزانہ کی بنیاد پر ماہر نفسیات کے پاس جاتی رہی تا کہ اس بیماری کو کسی طور پر ختم کیا جا سکے

نادیہ جمیل کے سر میں رسولی تھی اور اس کے ساتھ ان کی انگلی میں بھی رسولی نکلی تھی جس کا انہوں نے علاج کروایا

جان شیرخان پاکستان کے معروف کھلاڑی کو پارکنسن کی بیماری کا سامنا ہے

نازیہ حسن کاو کینسر تھا جوکہ وہ اپنے بھائی سے بھی چھپاتی رہی بالاخر اس بیماری کی وجہ سے مر گئی

سائرہ یوسف کی بہن کو کینسر ہے جب کہ ان کی بڑی بہن پلوشہ و بھی کینسر تھا جس کی وجہ سے وہ مر گئی

جنسی تعلیم کے نام پر تعلیمی ادارہ کا پروفیسر معصوم بچیوں کیساتھ کیا شرمناک کام کرتا رہا؟ تفصیل پڑھ کر آپکو بھی شدید غصہ آئے گا. جنسی تعلیم کے نام پر این جی او کے کالے کرتوت سامنے آ گئے۔

محراب پور میں پرائمری سکول کی بچیوں کو فحش فلمیں دکھا کر ان سے نازیبا حرکتیں بھی کی گئی،والدین سراپا احتجاج بن گئے۔تفصیلات کے مطابق جب سے زینب زیادتی کیس کا واقعہ سامنے آیا ہے

پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔کہیں اس حوالے سے قانون سازی کا شور ہے تو کچھ لبرلز جنسی تعلیم کو اس کا حل قرار دے رہے ہیں مگر وہ جنسی تعلیم کتنی محفوظ ہو گی یہ ابھی تک سوالیہ نشان ہے،ایسا ہی ایک واقعہ سندھ کے شہر محراب پور مٰیں پیش آیا جہاں پرائمری سکول کی بچیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔

محراب پورکے نواحی علاقہ ٹنڈوکرم خان نظامانی میں میں سرکاری پرائمری اسکول کی بچیوں کو جنسی ہراساں کرنے کا اسکینڈل سامنے آیا ہے، سافکو نامی این جی او نے لڑکیوں کوایک کمرے میں اکٹھا کرکے انہیں

غیراخلاقی فلمیں دکھائیں۔یہی نہیں ان کمسن لڑکیوں کے ساتھ نازیبا حرکتیں بھی کی گئیں، واقعہ کے خلاف بچیوں کے والدین نےاحتجاج کیا۔محکمہ تعلیم سندھ نے واقعے کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا۔

کیا پاکستان میں بچوں کو جنسی تعلیم دینی چاہیے یا نہیں؟ اس بارے میں آپ کیا رائے رکھتے ہیں؟

حضرت خواجہ معین الدّین چِشتی اجمیری رحمتہ اللّہ علیہ کی عمر ۵۲ سال ہو گئی.آپ رحمتہ اللّہ پہلے کعبہ شریف گئے پِھر وہاں سے آپ رحمتہ اللّہ علیہ نے مدینہ منوّرہ میں حاضری دی.

آستانہ نبوی میں مقیم ہو گئے.ایک دن روضہ مُقدّس سے آواز آئی کہ:” معین الدّین کو بُلاؤ. ” خدام نے معین الدّین نام لے کر پُکارنا شروع کِیاتو کئی طرف سے لبّیک کی آواز سُنی.خدام نے عرض کی:” کس معین الدّین کی طلبی ہے؟

یہاں اس نام کے بہت لوگ حاضر ہیں. ”پِھر آواز آئی: ” معین الدّین چِشتی ( رحمتہ اللّہ علیہ ) کو بُلاؤ. ” خدام آپ رحمتہ اللّہ علیہ کے پاس پہنچے تو ان کی عجیب حالت تھی.جب خواجہ گریاں و نالاں درود و سلام پڑھتے ہوئے روضہ مُقدّسہ پہ حاضر ہوئے،آواز آئی: ” اے قُطب المشائخ اندر چلے آؤ. ” حضرت بے خود حضرت بے خود و مدہوش اندر گئے.

وہاں نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے دِیدارِ پُرانور سے مشرف ہوئے.نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رحمتہ اللّہ علیہ کو مُخاطب کر کے اِرشاد فرمایا: ” اے معین الدّین ( رحمتہ اللّہ علیہ )! تم میرے دِین کے مطابق ( ہو )

لیکن تم کو فوراً ہندوستان جانا ہے.وہاں اجمیر نام کا ایک شہر ہے.جہاں میرے فرزندوں میں سے سیّد حُسین نام کے ایک شخص نے جہاد کِیا تھا اور اب وہ شہید ہو گئے ہیں اور وہ مقام پِھر کفار کے قبضہ میں آ گیا ہے.

تمہارے دم قدم سے وہاں اِسلام کا بول بالا ہو گا اور کافروں کو ذِلّت و شکست سے دوچار ہونا پڑے گا. ” پِھر نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انار خواجہ کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا کہ اس میں دیکھو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تمہیں کس جگہ جانا ہے.

” آپ رحمتہ اللّہ علیہ نے انار سے دیکھا تو مشرق سے مغرب تک جو کچھ تھا سب ان کی نظروں کے سامنے آ گیا.پِھر اسی میں سے اجمیر شہر اور اس کی پہاڑیاں نظر آنے لگیں.آپ رحمتہ اللّہ علیہ وہاں سے چالیس مُریدوں کے ہمراہ اجمیر کے لیے روانہ ہوئے اُدھر اجمیر کے راجہ کو نجومیوں کے ذریعے آپ رحمتہ اللّہ علیہ کی تشریف آوری کی خبر مِل گئی.

جگہ جگہ احکام جاری کر دیے گئے کہ:” اس قِسم کا درویش نظر آئے تو اسے فوراً قتل کر دیا جائے. ” بحرحال دورانِ سفر آپ رحمتہ اللّہ علیہ پر کوئی قابو نہ پا سکا.جسے اللّہ رکھے اسے کون چکّھے کے مصداق اللّہ تعالیٰ کی حفظ و امان میں چالیس ساتھیوں کے ہمراہ اجمیر شریف پہنچ گئے.

عبداللہ آج اپنے دوست کے بیٹے کی شادی میں شرکت کےلیے بحرین جارہا تھا۔ سفر اسے ہمیشہ سے ہی پسند تھا اور آج تو اس کی شوخی موسم کی وجہ سے زوروں پر تھی۔ بحرین میں بارش شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی تھی اور آج تو ساون کھل کر برس رہا تھا، اس محبت کی طرح جو انجام سے بےنیاز ہو۔ مگر شاید قدرت کو کچھ اورہی منظور تھا۔

شادی ہال میں داخل ہوتے ہی ایک بزرگ ڈاکٹر صاحب اس کے ساتھ بیٹھ گئے، اس ضمیر کی طرح جو گناہ سے روکتا تو نہیں لیکن اس کا مزہ ضرور کرکرا کر دیتا ہے۔ بارش کا خنک موسم، کھانے کی کھاج اور بیک گراؤنڈ میں چلتے آئٹم سونگز، ڈاکٹر صاحب کی آواز میں سب دب گئے۔

وہ گویا ہوئے، ’’عبداللہ، آج جمعے کا مبارک دن ہے، یہ کالے کپڑے کیوں پہنے ہیں؟‘‘
عبداللہ: ’’جی وہ سفید پہنتے ہوئے شرم آتی ہے کہ کہیں فرشتے منافقوں میں نہ لکھ لیں۔ ابھی اندر باہر ایک جیسا ہے (same same)؛ اس میں آرام رہتا ہے۔‘‘

ڈاکٹر صاحب شاید اپنی بزرگی کے زعم میں جواب سننے کے عادی نہیں تھے۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے غصّے کو قابو کیا اور کہنے لگے: ’’کیا بچکانہ باتیں ہیں۔ بڑے ہوگئے ہو، کنپٹی اور داڑھی میں سفیدی آرہی ہے اور تم شوخیوں میں لگے ہوئے ہو۔‘‘

’’جی اسی بات کا تو رونا ہے۔ بال سفید ہو گئے، دل کالا رہ گیا ہے،‘‘ عبداللہ نے جواب دیا۔

About admin

Check Also

اس لیے میں بے پردہ رہتی ہوں اور مغربی طرز کا فیشن کرتی ہوں

ہمارے معاشرے میں کچھ خواتین یہ رائے رکھتی ہیں کہ مسلم خواتین کے لیے حجاب …